ہفتہ 7 نومبر 2026 - 13:32
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی سیرت میں دین داری، تواضع اور ولایت سے وفاداری کے روشن نمونے موجود ہیں، حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی

حوزہ/ میانمار کے شہر رنگون کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں رضائے الٰہی کو ہر چیز پر مقدم رکھا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے دفاع میں بے مثال کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ کی سیرت آج کے معاشرے کے لیے تواضع، قناعت، ایثار اور حقیقی دینداری کا عملی نمونہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میانمار کے شہر رنگون کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی نے دنیا و آخرت کی حقیقت، حقیقی عزت و عظمت، قناعت، علم اور دعا کی قبولیت کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو دنیا میں دائمی راحت اور آسائش کی تلاش کے بجائے آخرت کی کامیابی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کو دین داری، تسلیم و رضا، تواضع اور ولایت سے وفاداری کا بہترین نمونہ قرار دیا۔

دنیا میں دائمی راحت کی تلاش بے نتیجہ ہے

حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی نے خطبۂ اول میں ایک روایت کے مضمون کی روشنی میں چھ اہم اخلاقی و تربیتی نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے راحت کو جنت میں، بلندی و عظمت کو تواضع میں، عزت کو نماز شب میں، بے نیازی کو قناعت میں، علم کو محنت و مشقت میں اور دعا کی قبولیت کو حلال لقمے میں قرار دیا ہے، لیکن انسان ان نعمتوں کو غلط مقامات پر تلاش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا آزمائشوں اور مشکلات سے گھری ہوئی ہے اور یہاں کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس کی زندگی ہر طرح کی پریشانیوں سے خالی ہو۔ کسی کے پاس دولت ہے تو صحت کی پریشانی ہے، کوئی صحت مند ہے تو مالی مشکلات سے دوچار ہے اور کسی کو اولاد کی نعمت حاصل ہے تو وہ اولاد کے مسائل سے پریشان ہے۔ اس لیے دنیا کو دائمی راحت کا مقام سمجھنا درست نہیں، بلکہ حقیقی اور دائمی سکون آخرت میں حاصل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی عزت و عظمت تکبر میں نہیں بلکہ تواضع میں ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ آپؑ نے سادگی اور تواضع کے ساتھ زندگی گزاری، شب عروسی میں اپنا لباس ضرورت مند کو عطا کیا اور اہل خانہ کے ساتھ خود بھوکے رہ کر یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا کھلایا۔ یہ واقعات آپؑ کے بلند اخلاق، ایثار اور ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

حقیقی عزت نماز شب اور بے نیازی قناعت میں ہے

خطیب جمعہ نے کہا کہ انسان کو عزت و مقام حکمرانوں کے درباروں اور مال داروں کی خوشامد میں تلاش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ نماز شب اور اللہ تعالیٰ کے حضور بندگی کے ذریعے حقیقی عزت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حقیقی دولت زیادہ مال و اسباب جمع کرنے میں نہیں بلکہ قناعت میں ہے۔ آج معاشرے میں دوسروں سے آگے نکلنے، نمود و نمائش اور مقابلہ بازی کی دوڑ نے انسان کو بے سکونی میں مبتلا کر رکھا ہے، حالانکہ قناعت انسان کو حقیقی بے نیازی عطا کرتی ہے۔

انہوں نے علم کے حصول کے لیے محنت، مشقت اور خواہشات پر قابو پانے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان اگر ہر وقت کھانے پینے اور جسمانی آسائشوں میں مشغول رہے تو علمی ترقی اور فکری پختگی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دعا کی قبولیت کے لیے حلال رزق اور پاکیزہ لقمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دعا کی قبولیت محض شور و غوغا سے نہیں بلکہ انسان کے پاکیزہ کردار اور حلال کمائی سے وابستہ ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی تسلیم و رضا کا نمونہ

حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی نے خطبۂ دوم میں دین کی حقیقت اور اس کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیا کہ دین ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑ تسلیم و رضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی دینداری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور اس کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں اس اصول کے متعدد روشن نمونے ملتے ہیں۔

انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے انتخابِ شریکِ حیات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کے لیے متعدد رشتے آئے اور بعض افراد نے بھاری مہر اور مالی وسائل کی پیش کش بھی کی، لیکن جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے پیغامِ نکاح دیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپؑ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ کیا اللہ اور اس کے رسول اس انتخاب سے راضی ہیں؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول کی رضا اسی میں ہے تو آپؑ نے بھی رضامندی ظاہر کردی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس طرزِ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کے نزدیک رشتے کے انتخاب میں مال و دولت، ظاہری شان و شوکت اور دنیاوی مقام کے بجائے رضائے الٰہی بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔

ولایت سے وفاداری حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا نمایاں پہلو

خطیب جمعہ نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے آپؑ کے انتخاب اور عملی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے۔ آپؑ نے نہ صرف ازدواجی زندگی کے لیے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو منتخب کیا بلکہ انہیں امام اور حجتِ خدا تسلیم کرتے ہوئے ان کی ولایت کا دفاع بھی کیا اور اس راہ میں اپنی جان تک قربان کردی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان کے انتخاب اس کے عقیدے، فکر اور دینی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا کو حقیقی معنوں میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپؑ کی زندگی، آپؑ کے فیصلوں، رضائے الٰہی کے لیے آپؑ کی وابستگی اور ولایت کے دفاع میں آپؑ کے کردار کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

حجۃ الاسلام سید یوسف مہدی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت صرف ایک تاریخی نمونہ نہیں بلکہ آج کے معاشرے کے لیے عملی رہنمائی کا سرچشمہ ہے، جس سے انسان کو دین داری، قناعت، تواضع، ایثار، تسلیم و رضا اور ولایت سے وفاداری کا درس ملتا ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha